| آئینہ تم بنو لوگ سنوریں گے خود آئینے کے دکھانے کا کیا فائدہ |
| شیخ جی اب زمانے نے کروٹ ہے لی صرف باتیں سنانے کا کیا فائدہ |
| دوستی کا شجر میں لگاؤں تو تم آبیاری توجہ کی کرتے نہیں |
| بے ثمر بھی رہے اور سایہ نہ دے تو شجر کے لگانے کا کیا فائدہ |
| اس کی یادوں کی رسی لٹکتی رہی کہہ رہی تھی کہ پھندا بناؤ مجھے |
| میں نے دل سے کہا وہ گیا تو گیا جان اپنی گنوانے کا کیا فائدہ |
| عشق کے حق میں میں نے دلائل دیے تب مسلسل وہ تردید کرتا رہا |
| اب وہ آیا ہے خود حسن کے دام میں اب فسانے سنانے کا کیا فائدہ |
| تیرے جانے سے میری تمنائیں سب کچھ مری اور کچھ ہو گئیں نیم جاں |
| جان سے ہاتھ میں نے بھی دھوئے اگر پھر بتا تیرے جانے کا کیا فائدہ |
| ط |
| تیری یادوں کے نشتر بھی چلتے رہے وہ تبسم بھی دل کو جلاتی رہی |
| پاس ہو کر ستاتے کوئی بات تھی یاد بن کر ستانے کا کیا فائدہ |
| جب سہارے کی مجھ کو ضرورت پڑی میں نے دیوار سے ہی سہارا لیا |
| غیر کو ہی میسر ہمیشہ رہیں تیری بانہوں کا شانے کا کیا فائدہ |
معلومات