سجے ہیں جو گلشن ولادت ہے اُن کی
ملے یہ نظارے عنایت ہے اُن کی
فضائے دہر میں حسیں نور پھیلا
ملائک نے پائی بشارت ہے اُن کی
گرے منہ کے بل ہیں یہ طاغوت سارے
جگیں دیپ نوری علامت ہے اُن کی
ہیں قلبِ جہاں پر محبت کے غلبے
یہ احساں خدا کا شہادت ہے اُن کی
ہلا قصرِ کسریٰ ہے قیصر بھی حیراں
زیاں کے جہاں پر یہ ہیبت ہے اُن کی
ہے وادیء فاراں یوں پُر نور ساری
بڑی شان والی سیادت ہے اُن کی
ہے محمود سالارِ اعظم کی آمد
جہانوں میں عمدہ قیادت ہے اُن کی

1
27
خلاصہ

یہ نعت حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت، نورِ ہدایت اور عظمتِ رسالت کو موضوع بناتی ہے۔ شاعر ولادتِ نبوی ﷺ کو ایسا مبارک واقعہ قرار دیتا ہے جس سے فضائے عالم نور سے منور ہوئی، ملائکہ کو بشارت ملی اور دلوں میں محبت و ایمان کی روشنی پیدا ہوئی۔

کلام میں ولادتِ مبارک کے ساتھ باطل قوتوں کے زوال اور جاہ و جبروت کے لرز اٹھنے کا تذکرہ بھی ہے، جبکہ وادیِ فاراں کو آپ ﷺ کی آمد سے نورانی اور آپ ﷺ کی سیادت و قیادت کو بے مثال قرار دیا گیا ہے۔ اختتام پر شاعر حضور ﷺ کی آمد کو جہانوں کے لیے عظیم قیادت اور رحمت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔

مرکزی پیغام: حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عالم کے لیے نور، ہدایت، محبت، عظمت اور قیادتِ حق کا آغاز ہے۔

0