| تری نظر سے جو اک بار آشنا ہوا دل |
| پھر اپنے آپ سے کب یوں لگا خفا ہوا دل |
| وہ ایک لمس کہ جس کی خبر نہ تھی پہلے |
| اسی کے بعد زمانے سے ہے جدا ہوا دل |
| ترے سکوت میں ایسی صدا تھی پنہاں کیا |
| خود اپنے شور سے آخر گریز پا ہوا دل |
| وہ تیرے قرب کی خوشبو تھی یا کوئی جادو |
| کہ فاصلے میں بھی تیرا ہی مبتلا ہوا دل |
| نہ جانے عشق نے کیا راز مجھ پہ کھولا ہے |
| جو درد تھا وہی جینے کی بھی دوا ہوا دل |
| میں اپنے آپ کو ڈھونڈوں تو تیرا عکس ملے |
| اس آئنے میں عجب تجھ سے آشنا ہوا دل |
| ترے خیال کی بارش ہوئی تو ایسے لگا |
| کہ مدتوں سے تھا پیاسا ابھی ہرا ہوا دل |
| کسی نے پوچھ لیا حالِ دل تو ہنس کے کہا |
| بس ایک شخص کی خاطر ہے مبتلا ہوا دل |
| وہ ایک نام جو لب پر کبھی نہیں آیا |
| اسی کے ذکر سے ہر دم ہے با صفا ہوا دل |
| یہ عشق بھی ہے عجب آئینہ حقیقت کا |
| جو خود کو بھول گیا تب ہی باخدا ہوا دل |
| سنو کمال محبت میں یہ بھی ہے طارِق |
| جو ٹوٹ جائے وہی پھر سے خوش نما ہوا دل |
معلومات