اپنی کہانی کا کبھی نوحہ نہ لکھ سکے
یوسف تو لکھ دیا پہ زلیخا نہ لکھ سکے
لکھنے کی بات آئی تو چھینے گئے قلم
اب اس میں کیا کہ ہم سبھی کیا کیا نہ لکھ سکے
قاتل کو ہم نے تو کبھی قاتل نہیں لکھا
افسوس عیسےٰ کو بھی مسیحا نہ لکھ سکے
دو چار حرف جان کے منکر نہ حق سے ہو
شانِ خدا کے راز تو موسیٰ نہ لکھ سکے
آنکھوں نے تو کیا اسے پورے کا پورا جذب
لیکن یہ ہاتھ ویسے کا ویسا نہ لکھ سکے

0
1