میرے مولا! تُو گناہوں سے بچانا دل کو
اپنے محبوب کی الفت میں سجانا دل کو
حرصِ دنیا کی ہوا آئے تو محفوظ رہے
اپنی رحمت کے حصاروں میں چھپانا دل کو
نفس و شیطان کے چنگل سے بچائے رکھنا
راہِ عرفاں کا مسافر ہی بنانا دل کو
ذکر کی لذتِ جاں بخش عطا ہو ایسی
اپنی یادوں کا بنا دے تُو ٹھکانا دل کو
اپنے محبوب کے اخلاق کا پیکر کر دے
حسنِ کردار کا آئینہ بنانا دل کو
آخری وقت جو سینے میں دھڑکنا چھوڑے
اپنے دیدار کی لذت میں سلانا دل کو
جب ہو غافل تیری یاد سے عتیق الہی
اپنی رحمت کے سمندر میں بسانا دل کو

4