کاش اک بار وہ کچھ دل کی سناتے جاتے
ہم بھی کچھ زخم انہیں اپنے دکھاتے جاتے
عمر بھر جس کو چھپایا تھا زمانے بھر سے
وہی اک راز تمہیں کیسے بتاتے جاتے
ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ اور بھی باقی ہے ابھی
تم نے اچھا کیا، یہ وہم مٹاتے جاتے
ہم نے اس خوف سے آواز نہ دی تھی تم کو
تم پلٹ آتے تو پھر خود کو بھلاتے جاتے
کچھ تو معلوم ہمیں ہوتا کہ ہم کیوں بچھڑے
اپنی خاموشی کا مفہوم بتاتے جاتے
ہم نے مانا کہ محبت میں شکایت کیسی
کم سے کم جھوٹی تسلی تو دلاتے جاتے
شاہدؔ اب تک یہی پچھتاوا رہا ہے دل میں
کاش ہم خود کو بھی اس روز بچاتے جاتے

0
3