| عنوان:کشکولِ وفا کی حفاظت |
| تحریر: ندیم احمد زیدی |
| محبت کوئی معمولی جذبہ نہیں، یہ دلوں کے درمیان رکھا ہوا ایک نازک سا کشکولِ وفا ہے۔ اس کشکول میں خلوص کے سکے، چاہت کی خوشبو اور اعتماد کی روشنی جمع ہوتی رہتی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں اگر ذرا سا شگاف پڑ جائے تو برسوں کی جمع پونجی لمحوں میں ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ |
| رشتے محض لفظوں سے نہیں جیتے جاتے، انہیں توجہ، قربانی اور نگہبانی درکار ہوتی ہے۔ جس طرح ایک امانت کی حفاظت کی جاتی ہے، اسی طرح محبت کو بھی سنبھالنا پڑتا ہے۔ بے احتیاطی، بدگمانی اور انا کے ننھے سے کانٹے بھی اس کے دامن کو چاک کر سکتے ہیں۔ |
| وقت کی آندھیاں اکثر رشتوں کی سچائی کو آزمانے آتی ہیں۔ جو دل مضبوط ہوں، وہ سنبھل جاتے ہیں؛ اور جو غفلت میں ہوں، وہ بکھر جاتے ہیں۔ محبت کی اصل آزمائش خوشیوں میں نہیں، آزمائشوں میں ہوتی ہے۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ کشکول سلامت ہے یا اس میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ |
| دل کی امانت کو رسوا ہونے سے بچانا ہی اصل وفا ہے۔ کیونکہ جب اعتماد ٹوٹ جائے تو لفظِ معافی بھی اس کی مکمل تلافی نہیں کر پاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محبت کو صرف محسوس ہی نہ کیا جائے بلکہ اس کی حفاظت بھی کی جائے—خاموشی سے، خلوص سے، اور پوری ذمہ داری کے ساتھ۔ |
| زیدیؔ، محبت اگر مل جائے تو اسے سنبھال کر رکھنا… کہ یہی وہ دولت ہے جو کھو جائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔ |
معلومات