دل ہے بے چین اب قرار نہ پوچھ
حسرتِ انتظارِ یار نہ پوچھ
وصل کے لمحے روح بخش ہی ہیں
چھائے گی کب یہاں بہار نہ پوچھ
پر حسیں ہو سماں، ہو تازگی بھی
رونقیں بزم کی نگار نہ پوچھ
آپ کے آنے سے بڑھے خوشی بھی
پھیلے کیسی مہک، خمار نہ پوچھ
سانسوں میں تُو، ہے دھڑکنوں میں بھی تُو
حد سے بے حد جو ہے پیار نہ پوچھ
طُوفاں کا بھی اشارہ جب کبھی ہو
کب اُٹھیگا مگر غبار نہ پوچھ
کس کو ناصؔر بتائیں بیتی ہے کیا
یاد ہر دم رہی، شمار نہ پوچھ

0
23