جاننے والے جب انجان سمجھنے لگ جائیں
تب ہمیں بے سر و سامان سمجھنے لگ جائیں
فکر اچھی ہے کمائی کی مگر یہ بھی نہ ہو
اپنے گھر والے ہی مہمان سمجھنے لگ جائیں
ایسی نادانی سے ہم چاہتے ہیں رب کی پناہ
پیار کو پیار کے دوران سمجھنے لگ جائیں
دید کے رزق سے رکھے جو نظر کو محروم
ہم اسے کس طرح بھگوان سمجھنے لگ جائیں
ہر اک انسان کو انسان ہی سمجھا جائے
کاش یہ بات سب انسان سمجھنے لگ جائیں
میں نے اس واسطے کچھ لوگوں کو رکھا ہے قریب
عین ممکن ہے وہ نادان سمجھنے لگ جائیں
اسے کرنا ہے قمرؔ میری طبیعت کے خلاف
کام جس کو سبھی آسان سمجھنے لگ جائیں
قمرآسیؔ

2