| جاننے والے جب انجان سمجھنے لگ جائیں |
| تب ہمیں بے سر و سامان سمجھنے لگ جائیں |
| فکر اچھی ہے کمائی کی مگر یہ بھی نہ ہو |
| اپنے گھر والے ہی مہمان سمجھنے لگ جائیں |
| ایسی نادانی سے ہم چاہتے ہیں رب کی پناہ |
| پیار کو پیار کے دوران سمجھنے لگ جائیں |
| دید کے رزق سے رکھے جو نظر کو محروم |
| ہم اسے کس طرح بھگوان سمجھنے لگ جائیں |
| ہر اک انسان کو انسان ہی سمجھا جائے |
| کاش یہ بات سب انسان سمجھنے لگ جائیں |
| میں نے اس واسطے کچھ لوگوں کو رکھا ہے قریب |
| عین ممکن ہے وہ نادان سمجھنے لگ جائیں |
| اسے کرنا ہے قمرؔ میری طبیعت کے خلاف |
| کام جس کو سبھی آسان سمجھنے لگ جائیں |
| قمرآسیؔ |
معلومات