ہر حُسن ہے مدحتِ روئے نازنیں
بُوئے زلفِ دلبریں، مثلِ عنبریں
پنہاں ہے عالم سے جانِ جاں تُو کہیں
آ کبھی تو طُور پر اے پردہ نشیں
لو چلے اب عالمِ مدہوشی میں ہم
ہو گئے وہ آج ملبوسِ مرمریں
اب دلِ مردہ کو کیا سینے میں رکھیں
بعد تیرے تو یاں رہتا کوئی نہیں
کر لہو سے اے مِرے قاتل صاف تو
رہ نہ جائے تیغ پر داغِ خوں کہیں

0
10