ہر خیر کے قاسم صلے علیٰ کیا فیض سخی سرکار کے ہیں
کونین میں جتنی زینت ہے یہ جلوے حُسنِ یار کے ہیں
فیاض نگر ہے در اُن کا اور سب سے سخی یہ گھر اُن کا
نورانی جس سے خُلد ہوا یہ روپ نبی مختار کے ہیں
سرکار کے بردے جو بنتے وہ راہِ نبی پر ہیں چلتے
دلدار کے در پر چلتے ہیں بٹیں دان جہاں انوار کے ہیں
انوار کے باراں طیبہ میں ہر آن گھٹائے رحمت سے
سالار سخی مختار نبی بڑے رتبے سنے اس یار کے ہیں
چولہا ہے نبی کے گھر ٹھندا خیرات میں دیں فردوسِ بریں
ملتا ہے ندا سے پہلے سب کیا جُود شہے ابرار کے ہیں
تھی اُن کی گزر جب سدرہ سے داریں تھے قدموں میں اُن کے
تھے قصرِ دنیٰ میں میرے نبی درجات سخی دلدار کے ہیں
دن رات مدینے کے نوری ہر حاجت جس جا ہے پوری
محمود فضائل اطہر کے بجیں ڈنکے جس کردار کے ہیں

0
1
4
یہ نعت حضور ﷺ کی شانِ سخاوت، نورانیت، مقامِ معراج، اور آپ ﷺ کے در سے ملنے والے فیوض و برکات کا جامع بیان ہے۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ کائنات کی ہر نعمت اور ہر خیر دراصل حضور ﷺ کے وسیلے سے ہی انسان تک پہنچتی ہے، اور آپ ﷺ کا در ہی اصل مرکزِ عطا ہے۔

0