فون کو اب اٹھانا کٹھن ہو گیا
وائی فائی لگانا کٹھن ہو گیا
وہ جو کہتے تھے ہم ساتھ ہیں ہر گھڑی
اب تو وعدہ نبھانا کٹھن ہو گیا
ہر جگہ لاک لگتے ہیں اس نیٹ پر
دردِ دل اب چھپانا کٹھن ہو گیا
ہسٹری ان کی یادوں کی مٹتی نہیں
خوابِ ماضی بھلانا کٹھن ہو گیا
میڈیا پر تو چرچے ہیں ہر سمت اب
حالِ دل اب سنانا کٹھن ہو گیا
جس کی نظروں میں دنیا سمٹتی تھی اب
اس کو آنکھیں دکھانا کٹھن ہو گیا
ہائے اس دورِ سنگِ گراں میں میاں
اپنا رشتہ بچانا کٹھن ہو گیا

0
2