| فون کو اب اٹھانا کٹھن ہو گیا |
| وائی فائی لگانا کٹھن ہو گیا |
| منگوانے لگے پن کا نمبر بھی وہ |
| رازِ الفت چھپانا کٹھن ہو گیا |
| ان کی یادوں کا ڈیٹا ہے اتنا کہ وہ |
| حافظے سے مٹانا کٹھن ہو گیا |
| اَن بلاک ان کو ہم نے کیا بارہا |
| دل سے رشتہ مٹانا کٹھن ہو گیا |
| سین کر کے بھی خاموش ہیں جو وہ اب |
| ان کو اب یہ جتانا کٹھن ہو گیا |
| فون نے دوریاں کر دیں ہیں اب ختم |
| اور اب مسکرانا کٹھن ہو گیا |
| چہرے بدلے ہیں اب فلٹروں کے تلے |
| اصل صورت دکھانا کٹھن ہو گیا |
| بیٹری کی طرح دل ہوا لو بہت |
| اب تو دل کا لگانا کٹھن ہو گیا |
| وہ جو کہتے تھے ہم ساتھ ہیں ہر گھڑی |
| اب تو وعدہ نبھانا کٹھن ہو گیا |
| ہر جگہ لاک لگتے ہیں اس نیٹ پر |
| دردِ دل اب چھپانا کٹھن ہو گیا |
| ہسٹری ان کی یادوں کی مٹتی نہیں |
| خوابِ ماضی بھلانا کٹھن ہو گیا |
| میڈیا پر تو چرچے ہیں ہر سمت اب |
| حالِ دل اب سنانا کٹھن ہو گیا |
| جس کی نظروں میں دنیا سمٹتی تھی اب |
| اس کو آنکھیں دکھانا کٹھن ہو گیا |
| ہائے اس دورِ سنگِ گراں میں میاں |
| اپنا رشتہ بچانا کٹھن ہو گیا |
معلومات