مجھے بنایا ہے انساں بڑوں کے پالن نے
سکھایا پیار سے رہنا ہے گھر کے آنگن نے
نہ جب سے چھاؤں رہی سر پے میرے والد کی
بھگو دیا ہے مکمل غموں کے ساون نے
یہ صبر ہی ہے جسے اوڑھ کر ہوں پردے میں
چھپا کے رکھا ہے ہر زخم میرے دامن نے
عروج مجھ کو ہے دیتی یہ میری حق گوئی
مجھے ہمیشہ گِرایا ہے خود سے ان بن نے
ثبوت مِل ہی گئے کھوٹ کے زمانے کو
مِری نظر میں کبھی گھر نہ کیا جو کندن نے
میں خوش ہوں، زیر کیا اپنے ہی برادر کو
یہ بھول کر کہ لڑایا ہمیں ہے دشمن نے
میں کیوں نہ قدر کروں تجھ سے اپنے رشتے کی
یہ پھول چہرے دیے ہیں اس ایک بندھن نے
اسے خیال نہیں رہتا ہے مِرا اکثر
سب الجھنوں کو بڑھایا اس ایک الجھن نے
ہماری آہ نے کر دی عیاں تِری صورت
چھپا کے رکھی تھی کب سے جو ایک چلمن نے

0
6