ہم نے بزرگوں سے اتنا ہی سیکھا ہے
انسانوں سے اپنا خون کا رشتہ ہے
رنگ زبان کا فرق زیادہ بات نہیں
میری طرح تو بھی آدم کا بیٹا ہے
باغِ محمد کے سب پھول نرالے ہیں
دور تلک ان کی خوشبو کا چرچا ہے
دل سے نکلی بات دلوں پہ اثر کرے ہے
کہتے ہیں کہ دل کو دل سے رستہ ہے
ظلم نہ کرنا تم کمزور پہ یاد رہے
اس کا آنسو سیدھا فلک تک جاتا ہے

0
1