| وہ خلوت میں خُود کو چُھپائے ہوئے ہیں |
| یہ میلے بھی خُود ہی لگائے ہوئے ہیں |
| جدھر دیکھتا ہوں اُدھر اُن کے جلوے |
| یُوں میری نگاہوں میں آئے ہوئے ہیں |
| جہاں بھی رہو گے وہی ساتھ ہوگا |
| کہ ڈیرے تُمہی میں لگائے ہوئے ہیں |
| مُجھے کیا خبر تھی کہ مُجھ میں وہی ہیں |
| یہ اَسرار اُن کے بتائے ہوئے ہیں |
| مُرید و مُرادِ حقیقی وہی ہے |
| بظاہر سَلاسل چلائے ہوئے ہیں |
| نہیں کوئی جھگڑا فنا و بقا کا |
| کہ فانی اُدھر سے ہی آئے ہوئے ہیں |
| ہَمہ اُوستی کا کیا پوچھتے ہو |
| وہ خُود ہی تو کثرت دِکھائے ہوئے ہیں |
| وہی تھا، وہی ہے، وہی ہی رہے گا |
| کَما کَانَ ہم کو سنائے ہوئے ہیں |
| وہ حَنّان، مَنّان، رَحْمان ہے |
| یہی نام ہم کو بچائے ہوئے ہیں |
| یہ اُن کا کرم ہے، اُنہی کی عطا ہے |
| کہ لَو ہم اُنہی سے لگائے ہوئے ہیں |
| تِرے در پہ یُوں ہی نہیں آ کے بیٹھے |
| سُنو ہم اُنہی کے بٹھائے ہوئے ہیں |
| ہمیں نہ اُٹھانا اے دربان دَر سے |
| یہیں دفن ہونے کو آئے ہوئے ہیں |
| فقیروں کا کہنا بھی اپنی جگہ ہے |
| وہ ترمیم کرنے کو آئے ہوئے ہیں |
| یہ میری لحد ہے یا باغیچہ ان کا |
| یہاں پھول سارے سجائے ہوئے ہیں |
معلومات