| گرچہ سنبھال رکھی دل کی بیماری ہم نے |
| رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے |
| شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار |
| زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے |
| پھر کبھی ہم نے نہ مانگی ہے خلاصی اُس سے |
| عشق تیرا جو کیا خود پہ ہے طاری ہم نے |
| ہم نے سمجھا ہے اسے تیرے تحائف کی طرح |
| ہجر کی خود پہ سہی ضرب جو کاری ہم نے |
| تُو سمجھتا تھا ہمیں روگ لگا دے گا تُو |
| زندگی تیرے دکھوں سے ہے سنواری ہم نے |
معلومات