جھڑک کے شخص جو انکار کرنے والا تھا
کبھی وہ نرمی سے گفتار کرنے والا تھا
گلاب کے ہی تھے کچھ پھول ہاتھوں میں اس کے
"وہ اپنے عشق کا اظہار کرنے والا تھا"
غرور میں ہی مگن رہتے وقت گزرا تھا
بڑی بے شرمی سے پندار کرنے والا تھا
زباں سے ہوتے ادا بول جو غلاظت کے
شریر بھی بنے بیزار کرنے والا تھا
اجل کو کُوچ پہ ناصؔر جو کر گیا بندہ
غریب پروری، ایثار کرنے والا تھا

0
21