| جب بھی پلکوں پہ تری یاد کے دیپک چمکے |
| تیری آہٹ سے کئی خواب کے پردے سرکے |
| دل کی ویران گلی میں تری خوشبو پہنچی |
| ورنہ اس شہر کے رستوں میں بہت سے بھٹکے |
| تیری آواز کا جادو ہے کہ اب تک دل میں |
| سرد راتوں میں بھی امّید کے شعلے بھڑکے |
| ہم نے سوچا تھا بھلا دیں گے تری یادیں ہم |
| یاد آئی تو کئی خواب میں غنچے چٹکے |
| کون سمجھے گا محبت کے تقاضوں کا مزاج |
| لوگ تو بات کی گہرائی سے پہلے کھٹکے |
| تیری تصویر کو آنکھوں میں بسایا ہم نے |
| ورنہ دنیا کے تماشے تو قریں تھے پھٹکے |
| ٹوٹ کر کی ہے اگر دوستی تم سے جانو |
| دشمنی تم سے اگر کرتے تو کرتے ڈٹ کے |
| دل کی مٹی میں جو دریا تری چاہت کا بہا |
| کئی احساس کے بنجر سے مقدر چمکے |
| عشق کی راہ میں طارق یہ قرینہ ٹھہرا |
| جس نے دل ہار دیا اُس کو لگے ہیں جھٹکے |
| ڈاکٹر طارق انور باجوہلندن |
معلومات