| اپنے ہی گھر میں جب کوئی مہمان ہو |
| کیوں نہ ایسے میں کوئی پریشان ہو |
| نا کوئی آرزو نا کوئی جستجو |
| شہرِ دل کیوں نہ ایسے میں ویران ہو |
| عشق کے رنگ نے سب کو یکساں رنگا |
| کیا بھلا کیا برا کیسے پہچان ہو |
| آپ کا ہے کِیا جو مرا حال ہے |
| دیکھ کر کیوں مجھے ایسے حیران ہو |
| کیا بتاؤں اسے کیا کروں میں بیاں |
| حال کا جب مرے کوئی پرسان ہو |
| میرے معصوم دل پر رحَم تو کرو |
| نا ملو مجھ سے یوں جیسے انجان ہو |
| تم کو میں نے پڑھا میں بھی شاعر ہوا |
| تم سراپا ہی غالب کا دیوان ہو |
| خود سے ہی گفتگو خود سے ہی بات ہو |
| درد سے چور جب کوئی انسان ہو |
| اپنے اندر ہی عشیار میں قید ہوں |
| کیسے آکر ملوں تم بھی نادان ہو |
معلومات