| افری چلو سرِ راہ دھرنا دے کر |
| شہرِ بے مہر میں سُرمہ بیچتے ہیں |
| اپنے کئے پہ کوئی نادم بھی نہیں |
| بے ضمیر مرتبے دیکھتے ہیں |
| پوچھا تحریریں پڑھ کر دیواروں کی |
| لوگ کیا شہر میں ایسا ہی سوچتے ہیں |
| اُس عہد میں جی رہے ہیں ہم افری |
| لوگ فنکار ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں |
| افری چلو سرِ راہ دھرنا دے کر |
| شہرِ بے مہر میں سُرمہ بیچتے ہیں |
| اپنے کئے پہ کوئی نادم بھی نہیں |
| بے ضمیر مرتبے دیکھتے ہیں |
| پوچھا تحریریں پڑھ کر دیواروں کی |
| لوگ کیا شہر میں ایسا ہی سوچتے ہیں |
| اُس عہد میں جی رہے ہیں ہم افری |
| لوگ فنکار ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں |
معلومات