سازشیں لاکھ کریں ہم کو ستانے والے
ہم وطن چھوڑ کے ہرگز نہیں جانے والے
گردنیں ان کی بھی محفوظ نہ رہ پائیں گی
سوچ لیں یہ بھی یاں مقتل کو سجانے والے
رہنمائی کریں خود بھٹکے ہوئے لوگوں کی
اب پیمبر یہاں کوئی نہیں آنے والے
تیرا تو کام تھا تعلیم و ترقی تعمیر
کہیں گھر تو کہیں اسکول گرانے والے
نار نمرود بھی جب ہو گئی ٹھنڈی لوگوں
ہوئے مبہوت ہیں پھر آگ لگانے والے
اس لیے مجھ سے کوئی جنگ نہیں جیتی گئی
دیکھ میں پاتا نہیں ہار کے جانے والے
آئے ہیں دھرنے میں جو لوگ بھی جنتر منتر
کاش ہو جائیں یہی دیش بچانے والے
ہم ہیں جنتا یہ حکومت ہے ہمیں نے بخشی
ہم ہی ہوں گے تجھے کرسی سے ہٹانے والے
میں کہاں جاؤں کہیں بھی میں چلا جاؤں مگر
مل ہی جاتے ہیں تیری یاد دلانے والے
شکل اپنی بھی کبھی دیکھ لیں اظہر صاحب
آئینہ ہر گھڑی اوروں کو دکھانے والے

0
6