جہاں میں آئے تھے ہم حق کے کارواں کے لیے
لڑائی لکھ دی گئی تھی جو امتحاں کے لیے
ہوا کے دوش پہ رکھ دی صدا صداقت کی
چراغ جلتے رہے ظلم کے مکاں کے لیے
قلم کو بیچ کے جو لوگ معتبر ٹھہرے
وہی مثال بنے اہلِ اقتدا کے لیے
کبھی جو سر نہ جھکا باطلوں کے در پہ کبھی
وہی سلیقہ ملا سجدۂ یقیں کے لیے
ہمیں نہ لالچِ دنیا، نہ خوفِ انت رہا
سفر چنا تھا فقط رب کے سائباں کے لیے
رکھی ہے جان جو ارشدؔ تری امانت میں
لکھی گئی ہے یہی ایک داستاں کے لیے

0
3