صدیوں سے دہرائے جاتے ہوئے
شیریں، نازک لب بھی پڑھتے ہوئے
اردو داں نہ بھولیں ان کی خدمت
الفاظوں سے من میں چھاتے ہوئے
فارس بھی، عربی کے بھی وہ ماہر
ہر فن سے لوہا منواتے ہوئے
زندہ ہے گویا جیسے یادوں سے
دائم ہی سانسوں میں بستے ہوئے
عرصہ بیتا، لیکن دل یہ ناصر
غالب کے مصرعہ، پر رٹتے ہوئے

0
42