بنے ہیں قاتل تمہارے تیور
نظر کے بھالے سخن کے نشتر
سقوط دل ہے ترا تبسم
گرا دے پل میں ہزار لشکر
تمہاری پلکوں کی ایک جنبش
کرے ہزاروں ہی لوگ پاگل
ترا تغافل ہے آزمائش
بچا نہ اس سے کوئی دلاور
جمال تیرا تری جوانی
جہان سارا نثار تجھ پر
یہاں مبشر کیا اجاگر
غزل نے میری تمہارا پیکر

0
3