پیشِ مواجہ جود و عطا کی بارش ہوتی رہتی ہے
ہر آنے جانے والے کی بخشش ہوتی رہتی ہے
میں ناقص ملتانی مٹی اوجِ فلک چھو سکتا نہیں
پھر بھی قدمینِ آقا کی خواہش ہوتی رہتی ہے
شہرِ مدینہ کی فرقت میں جیون کاہے کا جیون
گاہے دل میں دھڑکن نامی جنبش ہوتی رہتی ہے
جن کے چہرے پر آ جائے رونق ذکرِ محمد سے
روز فزوں ان کے چہرے کی تابش ہوتی رہتی ہے
اکثر دل بھر بھر آتا ہے شہرِ نبی کی یادوں سے
اکثر ضبطِ اشکِ رواں کی کاوش ہوتی رہتی ہے
میں بھی گداگر کہلاتا ہوں شاہِ زمن کی چوکھٹ کا
مجھ کو اس ارفع نسبت پر نازش ہوتی رہتی ہے
لائقِ نعت لغت میں کوئی لفظ نہیں اشفاق مگر
اہلِ محبت کی جانب سے کوشش ہوتی رہتی ہے

0
13