| مگر یزید کو لعنت بہت ہی پیاری تھی |
| جبھی تو اس نے تھی لعنت سمیٹ لی ساری |
| بہایا خونِ مقدس زمینِ کربل پر |
| تھی اس پہ خود ہی بہت جھوٹی آہ و زاری کی |
| سو اس طرح سے تھی بد طینتی کُھلی اُس کی |
| نہ پا سکا تھا وہ مقصد جو اُس کی خواہش تھی |
| فقط سمیٹا تھا اس نے خدا کا قہر و غضب |
| امامِ حقؑ کو تھی عزت ملی ہمیشہ کی |
| تھی جان دے کے جو اُمت کی رہنمائی کی |
| تو اس طرح سے خلافت کی ذمہ داری کی |
| ہزار رحمت و برکات آپ پر اے حسینؑ |
| بتا گئے ہمیں باطِل کا، حق کا مطلب بھی |
| میں کیسے عرض کروں آپ سے اے پیارے حسینؑ |
| کہ دل میں درد بھرا آنکھ میں ہیں آنسو بھی |
| جو دل میں شکر بھرا آپ کا ہے، محسنِ دیں |
| تو اک طرف ہے غم آپ کے دکھوں کا بھی |
| لہو لہو تھا بدن پور پور زخمی تھا |
| مگر زباں نے نہ اک باربھی شکایت کی |
| کھڑی اَجل بھی تھی دشمن کے روپ میں لیکن |
| تو ایسے وقت میں بھی فکر تھی عبادت کی |
| رکھا تھا سجدے میں سر تا ادا ئے فرض کریں |
| شمر نے ظلم کی اس وقت انتہا کردی |
| اے طاہرہ میں بیاں کر نہ پاؤں گی تفصیل |
| مرے قلم میں ہمت نہیں ہے لکھنے کی |
| ہمیں سکھا دیا اس جانِ دونو ں عالم نے |
| کہ حق کی خاطر پڑتی ہے جان دینی بھی |
| کروڑوں رحمتیں ہر آن اے پیارے حسینؑ |
| کروڑوں رحمتیں ہوں آسماں سے نازل بھی |
| طالبِ دعا طاہرہ مسعود |
معلومات