| ہاتھ بیگم کا بٹانے چل پڑے |
| آج کچھ جوہر دکھانے چل پڑے |
| گول پیڑا بھی نہ ہم سے بن سکا |
| ہم نئی روٹی بنانے چل پڑے |
| سوپ میں مرچیں بہت سی ڈال کر |
| لذتیں اس کی بڑھانے چل پڑے |
| پونچھنے بیٹھے جو ہم شیشے کے مگ |
| کرچیاں ان کی اٹھانے چل پڑے |
| دھو رہے تھے ہم جو برتن شان سے |
| فرش پر صابن گرانے چل پڑے |
| دیکھ کر بیگم کا غصہ "شادؔ" ہم |
| جان اپنی بس بچانے چل پڑے |
معلومات