| ستارے ان کے لئے مہرباں نہیں ہوتے |
| کہ باپ جن کے لئے سائباں نہیں ہوتے |
| جوانی آئی تھی کب کب گئی نہ ہوش انہیں |
| “غریب باپ کے بچے جواں نہیں ہوتے” |
| غریب خواب بھی دیکھیں اگر محلّوں کے |
| یہ خواب ان کے کہیں پر بیاں نہیں ہوتے |
| وہ اپنے باپ کی آنکھوں کا درد پڑھتے ہیں |
| سو کم سنی میں بھی وہ بے زباں نہیں ہوتے |
| کتاب ہاتھ میں ہو خواب آنکھ میں روشن |
| کھُلے نصیب کے در ان کے ہاں نہیں ہوتے |
| کئی تو خواہشیں رکھ دیتے ہیں لپیٹ کے پر |
| کسی سے دل کے تقاضے نہاں نہیں ہوتے |
| کسی کے گھر میں چراغاں رہے مہینوں تک |
| کئی گھروں میں دیے ضو فشاں نہیں ہوتے |
| وہ دوسروں کے لیے راستے بناتے ہیں |
| وہ منزلوں کا مگر خود نشاں نہیں ہوتے |
| یہ کس کا جرم ہے کس سے سوال پوچھیں ہم |
| غریب آدمی ویسے کہاں نہیں ہوتے |
| جو باپ بچوں کی خاطر گنوا دیں عمر سبھی |
| وہ باپ دنیا میں شاید عیاں نہیں ہوتے |
| دلیر ہیں جو خموشی سے درد سہتے ہیں |
| مگر زبان سے نوحہ کناں نہیں ہوتے |
| نظر نہ آئیں کہیں پر غریب جب طارِق |
| یہ لوگ کم نہیں ہوتے وہاں نہیں ہوتے |
معلومات