اپنا کہہ کر بلاؤ تو جانیں
فاصلہ دل سے مٹاؤ تو جانیں
میرا حال چلو مت پوچھو
اپنی داستاں سناؤ تو جانیں
صحرا نشینوں کی تشنہ لبی کا عالم
ربِ کریم ابر برساؤ تو جانیں
دُنیا گریز ہے کچھ طبعِ بیمار اپنی
افری کبھی اپنے ہاں بلاؤ تو جانیں

0
16