امیدِ التفات رکھوں کس گمان پر
چڑھتا نہیں ہے تیر بھی اتری کمان پر
صیاد بات مان مری یا نہ مان پر
اڑ جاؤں گا میں توڑ قفس آسمان پر
سوچوں ہوں ایک پل میں کئی زاویوں سے میں
گزرے ہیں سو گمان مجھے اک گمان پر
اس شہر میں ہے ہم سے بڑا کون دل فروش
جاتے ہیں آپ پھر بھی عدو کی دکان پر
کرتا بلند روز ہوں نالے میں یوں ہزار
جوں تک نہ رینگتی ہے مگر ان کے کان پر
بیٹھا ہوا ہے دل پہ مرے داغِ عشق یوں
بیٹھا ہو فیل جیسے کوئی فیل بان پر
بچپن میں لے کے کھاتے تھے چیزیں جو شوق سے
اب تک ہے ان کا ذائقہ اپنی زبان پر
کرتے ہیں مجھ پہ ایک عنایت بھی اس طرح
احسان کر رہے ہوں مرے خاندان پر
ہم نے تو ایک عمر ترے در پہ کی بسر
تجھ کو ہوئی نہ اس کی خبر کانوں کان پر
مقبول میری ہوتی نہیں ہے کوئی دعا
جاتی نہیں ہے آہ کوئی آسمان پر
ڈوبی جو بحر میں تو فقط اپنی ناؤ ہی
بجلی گری تو صرف ہمارے مکان پر
قادر بہت وہ اچھے ہیں یوں دل کے پر ذرا
قابو نہیں ہے آپ کو اپنی زبان پر

0
5