دشمن ہے تیرے سامنے رسمِ دعا سمیٹ
اے ذوالفقار کے امیں ہمت ذرا سمیٹ
طوفان اپنے وقت سے پہلے نہ جائے گا
جب تک شدید ہے ہوا اپنا دیا سمیٹ
میں دے رہا ہوں مشورہ اپنے غنیم کو
لڑنے کا حوصلہ نہیں اپنی زرہ سمیٹ
ہم کو ترے گناہ کی پوری سزا ملی
اب وقت آگیا کہ تو پوری جزا سمیٹ
کیسے عجیب دوست ہیں دستار لے اڑے
محفل سے اٹھ کے راہ لے اپنی قبا سمیٹ

0
7