| تیری ہستی مری جینے کا سہارا نکلی |
| تیری سیرت ہی مری زیست کا دھارا نکلی |
| جب بھی حالات نے چاہا کہ مجھے وہ توڑیں |
| تیری آواز مری روح کا نعرہ نکلی |
| سیکھا تجھ سے یہ کہ طوفان سے ڈرنا کیسا |
| تیری ہر بات مری راہ کا تارا نکلی |
| اپنے حصے کی مسرت بھی لٹا دی تو نے |
| میری خاطر تری ہر سانس گوارا نکلی |
| میں گرا ٹوٹا بکھر کر بھی سنبھلتا ہی گیا |
| کے دعا تیری ہی ہر غم کا مداوا نکلی |
| آج خاموش ہے وہ سایۂ شفقت لیکن |
| تیری تعلیم ہی جینے کا سہارا نکلی |
| اے مرے بابا تری یاد فقط یاد نہیں |
| بن کہ وہ روشنی کا مجھ میں ستارہ نکلی |
معلومات