یہ بڑھنے جو لگی اب دوریاں ہیں
ستا کیسی رہی تنہائیاں ہیں
اشاروں سے ہوجائیں حرکتیں بس
لگی جو لمس پر پابندیاں ہیں
خیالوں میں بسی یادیں ٹٹولیں
بچی بھی اس کی ہی پرچھائیاں ہیں
کسی کے نہ وہم میں بات شاید
ملی جو بندشوں کی کھائیاں ہیں
مصیبت بول کر آتی کہاں کب
نہ ہی معلوم کیا رسوائیاں ہیں
کسے ناصر پڑی رہتی کسی کی
سبھی لے بھی رہے انگڑائیاں ہیں

0
45