رات کی گہری جپ میں ہے اک ہلکی آہٹ
سنتے سنتے سو جائیں گے دل کی میٹھی آہٹ
بادل ٹوٹ کے برسیں یا ہو طوفانوں کا شور
بیتے وقتوں کی خوشبو میں تیری یاد کی آہٹ
سنتی ہیں سب بوڑھی مائیں خود سے کوسوں دور
محنت کش بیٹوں کے قدموں کی تھکتی آہٹ
جو بھی ساز میسر ہے گاتے جاؤ گیت
نقلی سازوں سے بھی اٹھے پیت کی اصلی آہٹ
کب سے ہیں دیواروں پر تصویریں چپ چاپ
اور میں سنتا جاتا ہوں سب کی گونگی آہٹ

0
7