چہرہ ہی عنواں جیسا صاف رہے
بندہ ہی اپنے سے معروف رہے
دنیا ہے ساری اک میدان عمل
مقصد پر گویا کامل وقف رہے
پس پردہ جو زندہ جاوید عیاں
مالک برتر کا اعلی وصف رہے
پہچاں خالق کی جیسے سہل یہاں
نبیوں سے حاصل ایسا ظرف رہے
دھیرے دھیرے ناصر بہبود ملے
منزل سے آگاہی کا لطف رہے

0
63