ہم تمنا کا جنازہ لے کے آئے ساتھ میں
ساتھ میں ہی رو پڑے جو مسکرائے ساتھ میں
اک طرف ہے رات رانی، یاسمیں دوجی طرف
بھول ہم سے ہو گئی پودے سجائے ساتھ میں
مان لو، مالی مسائل بیچ میں حائل ہوئے
دوریاں جسموں کی کیا؟ رہتے ہیں سائے ساتھ میں
ہم نے مانا ہے کہ خوشیاں بھی ملی ہیں بارہا
ہاں مگر غم نے بھی تو پھیرے لگائے ساتھ میں
درد کی شہنائیوں میں گویا رچ کر رہ گئے
گیت جو الفت کے ہم نے مل کے گائے ساتھ میں
کس طرح اس کی حدوں سے مجھ کو چھٹکارا ملے؟
میں جہاں جاتا ہوں میرا خوف جائے ساتھ میں
عہدِ گم گشتہ تری چنگاریوں کی خیر ہو
کیسے منظر تو سجا کر کر کے لائے ساتھ میں
صرف اس نے میری الفت کی نہیں تضحیک کی
آرزو کے سب دیّے بھی تو بجھائے ساتھ میں
چاہتوں کی پاس داری کا ملا تمغہ اسے
نت نئے جور و ستم حسرتؔ پہ ڈھائے ساتھ میں
رشید حسرتؔ
۱۳ اگست، ۲۰۲۶

0
3