مٹی کی خوشبو میں جنت بستی تھی
ہر دل میں الفت کی دولت بستی تھی
صحنوں میں بچوں کی ہنسی گونجتی رہتی
بوڑھوں کی باتوں میں حکمت بستی تھی
رشتوں کی خوشبو ہر اک سو پھیلی تھی
آنکھوں میں چاہت کی رونق بستی تھی
سادہ سا کھانا بھی نعمت لگتا تھا
مٹکے کے پانی میں ٹھنڈک بستی تھی
پھر اس وقت نے ایسی کروٹ بدلی ہے
ہر شے میں دولت کی چاہت بستی ہے
گھر تو محل جیسے سب بنتے دیکھے ہیں
دل میں لیکن کیسی وحشت بستی ہے
چہرے ہنستے تو ہیں مگر اندر خاموشی
غم کی چپ ہی ہر پل دل میں بستی ہے
اب الماری دواؤں سے بھر رکھی ہے
دل میں پھر بھی وہی اک حسرت بستی ہے
لوٹو پھر اس دور کی خوشبوؤں کی طرف
اخلاصِ دل کی جہاں دولت بستی تھی
گھر چاہے کچے تھے ساگر پھر بھی مگر
لوگوں میں سچ کی ہی عادت بستی تھی
بقلم: ساگر حیدر عباسی

0
9