| بیٹھے ہیں ان کی یاد میں ساۓ میں پیڑ کے |
| چلتی ہے کیوں تو بادِ صبا ہم کو چھیڑ کے |
| حاصل ہوا نہ کچھ یاں بکھیڑے نبیڑ کے |
| چلتا ہوں بس گناہوں سے دامن لتھیڑ کے |
| قابل نہیں رہا ہے یہ بخیہ گری کے اب |
| رکھ دی یوں دل کی کھال غموں نے ادھیڑ کے |
| اب چھٹ گئی ہے ہاتھوں سے ہی زیست کی عنان |
| بھاگے بغیر توسنِ دل بھی ہے ایڑ کے |
| چادر سے پاؤں پھیلے زیادہ نہیں کبھی |
| سویا بھی قبر میں ہوں تو پاؤں سکیڑ کے |
| بجھ جاۓ گی کبھی بھی لو دل کے چراغ کی |
| جاتی ہے دور کی بھی ہوا اس کو چھیڑ کے |
| خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا ہمیں یہاں |
| طوفاں تو آ کے چل دیا خیمے اکھیڑ کے |
| تجھ کو اجل اگر نہ کوئی اعتراض ہو |
| چلتا ہوں کار ہاۓ جہاں کچھ نبیڑ کے |
| دیکھوں نہیں میں خواب نیا روز اک الگ |
| بنتا وہی ہوں خواب میں پھر سے ادھیڑ کے |
| اس واسطے کروں ہوں عدو تجھ سے در گزر |
| لائق نہیں ہے منہ ترا میری چپیڑ کے |
| دنیا میں چاپلوسوں کے بھی دام بڑھ گۓ |
| پہلے جو اک ٹکے کے تھے اب ہیں وہ ڈیڑھ کے |
| جانے کہاں سے یاد چلی آئی آپ کی |
| بیٹھا ہی تھا کواڑ ابھی دل کے بھیڑ کے |
| قادر نہ جاؤ ظاہری شکلوں پہ لوگوں کی |
| ہوتے ہیں گرگ بھیس میں اکثر کہ بھیڑ کے |
معلومات