موت تو ایک دن آنی ہی ہے
زندگی جو ملی، فانی ہی ہے
شخص وہ ہے عقلمند و دانا
جس نے کچھ فکر کی ٹھانی ہی ہے
بعد پچھتانے سے ہو بھلا کیا
جان کر کی بھی من مانی ہی ہے
ہائے افسوس کرنے کی نوبت
عدل کے دن پشیمانی ہی ہے
آنسو جب ندامت کے نکلے
مغفرت، درگزر ہونی ہی ہے
توبہ کا درہمیشہ کھلا پر
شرط بس حس رہے اتنی ہی ہے
جب نصیحت بڑوں کی سنے تب
گاڑی پٹری پہ بھی لانی ہی ہے
خوب ناصر عمل کر یہاں تو
خیر سے جھولی بھی بھرنی ہی ہے

0
55