| نہ رہے ہوش کبھی، ایسی پلا دو یارو |
| کچھ تو بیمارِ محبت کو دوا دو یارو |
| قصرِ عالم سے پتا میرا مٹا دو یارو |
| لا مکانی میں مکاں، میرا بنا دو یارو |
| کچھ ذرا ہوش میں آؤں، تو پلا دو پھر سے |
| دوستی کا مری اتنا تو صلہ دو یارو |
| غرق ہو ہو کے خودی میں میں خدا کو پاؤں |
| "میرے ہمدرد مجھے دل سے دعا دو یارو" |
| ہوش والوں سے یہ کہہ دو کہ ہے دیوانہ ذکؔی |
| اور عالم میں یہ اعلان کرا دو یارو |
معلومات