اُس محفل کو دلبر ہر بار سجائیں گے
جس مجلس میں طالب سرکار کے آئیں گے
ہے جینا ہجر میں جو یہ جینا کیا جینا
اس خاطر جیتے ہیں سرکار بلائیں گے
اُس وادیٔ طیبہ میں ہیں رنگ بڑے گہرے
ملے اُن سے بلاوہ گر ہم عید منائیں گے
دل کش ہیں نظارے سب گنبدِ اخضر کے
کچھ نغمے خوشیوں کے درِ یار پہ گائیں گے
یہ نور کی واددی ہے منظر ہیں حسیں سارے
ساقی پھر نظروں سے اک جام پلائیں گے
اس گلشنِ طیبہ کے انداز نرالے ہیں
گل پھول چمن کے سب تمہیں نعت سنائیں گے
محمود جو مومن ہیں یہ منظر دیکھیں گے پھر
وہ لحد میں آ کر جب دیدار کرائیں گے

0
2