اب تَذْکِرَہ وفا پہ ملاقات ختم شد
دل میں جو تھا وہ کہہ دیا اب بات ختم شد
کرنا اگر ہے عشق تو یہ سوچ کر کرو
تم کھو گئے جو عشق میں تو ذات ختم شد
جس شخص کے فراق میں گزری ہے زندگی
مل جاتا وہ تو ہجر کی ہر رات ختم شد
ہم نے بھی اپنے دل سے اسے دور کر دیا
جس دن ہوئی تھی یاد کی سوغات ختم شد
دیدار کا وہ لمحہ بڑا دلنشیں لگا
اک پل میں عمر بھر کی شکایات ختم شد
اب اُس کے بعد دل کو کسی کی طلب نہیں
وہ بچھڑا اس ادا سے کہ جذبات ختم شد
©شاعر: ساگرحیدرعباسی

0
3