کہ گھر میں جیسے ہی اپنے جو جائے گی زینبؑ
جگر کے ٹکڑوں کو ہائے نہ پائے گی زینبؑ
نظر پڑے گی جو بے ساختہ وہ حجروں پر
تڑپ کے بچوں کو اپنے بلائے گی زینبؑ
لباس بچوں کا سینے سے وہ لگا کے حزیں
کہ دے گی بوسے وہ آنسو بہائے گی زینبؑ
ضرور عون و محمد کو بھی پکاریں گی
مگر نہ ایک بھی اُن میں سے پائے گی زینبؑ
صدائیں اماں کی کانوں میں گوجیں گیں ہر دم
ضرور بیٹوں کو رو رو بلائے گی زینبؑ
وہ لقمے ہاتھوں سے دیتی تھی اپنے بچوں کو
وہ بچے مر گئے کس کو کھلائے گی زینبؑ
ستم کی بجلیاں دل پہ گریں گی پھر صائب
لہو میں ڈوبے جو کُرتوں کو پائے گی زینبؑ۔

0
2