ہوا کے شور سے بگڑا مرا مزاج نہیں
اصول بیچ کے جینا کوئی علاج نہیں
ہے شہر والوں کو منزل کی آرزو کیسی
امیرِ شہر کا جب تک دلوں پہ راج نہیں
یہ کیا کہ عمر گزاری یہاں پہنچنے میں
تو کہہ رہا ہے وہ ملنے کا اب رواج نہیں
مرے خلوص کو وہ حیف جان ہی نہ سکا
مری مراد محبّت ہے تخت و تاج نہیں
مجھے ہے علم وہ سب کو امید دیتا تھا
جو کل ہوا تھا ضروری وہ ہونا آج نہیں
خزاں کے خوف سے شاخیں ہیں لرزہ بر اندام
مگر درخت کا موسم سے احتجاج نہیں
بدل رہی ہے ہوا شہر بھی بدلنا ہے
مگر دلوں کو بدل پائے جو سماج نہیں
مجھے وہ آج بھی طارِق عزیز ہے جاں سے
کہ میرے جیسی کسی دل میں اس کی لاج نہیں

0
5