| کتنے چہرے ہیں نقابوں میں یاں انسانوں کے |
| کتنے سودے ہیں یہاں روز ہی ایمانوں کے |
| جن کو برسوں سے سمجھتے رہے ہم اپنا سا |
| وقت آیا تو وہی ساتھ تھے بیگانوں کے |
| اس نے چپ چاپ مرا ہاتھ جو تھاما اک دن |
| تب کھلے مجھ پہ معانی سبھی پیمانوں کے |
| ایک ہی گھر میں رہے، پھر بھی رہے سب تنہا |
| گھر تو آباد تھے، دل خالی تھے انسانوں کے |
| ہم نے دیکھا ہے مصیبت میں بدلتے چہرے |
| اور کچھ ہاتھ بھی دیکھے ہیں نگہبانوں کے |
| دل نے شاہدؔ نہ کسی سے یہ کہا تھا، غم ہے |
| غم سے ٹوٹا تو ملے سائے نگہبانوں کے |
معلومات