وہ جیسی تیسی بات کریں وہ حسنِ ادا ہو جاتی ہے
میں لہو سے بھی تحریر لکھوں لمحوں میں ہوا ہو جاتی ہے
اس ہجر کی بھٹی سے پک کر تب کچھ اشعار نکلتے ہیں
جب درد کی آنچ پہ جل جل کر مری روح فنا ہو جاتی ہے
جب تازہ لہو کی حاجت ہو ان راہِ وفا کے کانٹوں کو
ہم ننگے پاؤں آتے ہیں اور رسم ادا ہو جاتی ہے
جب لوٹ کے باغ میں آتی ہے گلنار کے بالوں کو چھو کر
کچھ اور بھی پھولوں سے مل کر بے باک صبا ہو جاتی ہے
جیسی بھی غلطی ہو ان کی جتنا بھی ان پر غصہ ہو
وہ آنکھ جھکا کر ملتے ہیں تو معاف خطا ہو جاتی ہے

0
2