| گلہ آج دنیا کے محور سے ہو گا |
| زمانے کا شکوہ بھی داور سے ہو گا |
| نہ اب کوئی ناطہ ستم گر سے ہوگا |
| مداوا مرے دیدۂِ تر سے ہوگا |
| وفا کا صلہ کیوں جفا کی روش ہے |
| یہ کیسا صلہ دستِ رہبر سے ہوگا |
| یہاں مصلحت کی چلی ہے جو آندھی |
| بھروسہ کسے اب برادر سے ہوگا |
| اندھیروں نے گھیرا ہے چاروں طرف سے |
| مگر اب اجالا سخن ور سے ہوگا |
| ملیں گے نہ اب ہم کسی موڑ پر بھی |
| ہمارا تقاضا اب اس در سے ہوگا |
| بہا دو قلم سے اب اشکوں کے دریا |
| اثر کچھ تو گل تیرے تیور سے ہوگا |
معلومات