رقیہ…
تم اک پری ہو،
پری بھی ایسی
جس کے ستر ہزار پر ہوں،
اور ہر پر میں ایک شفاعت،
ہر پر میں ایک دعا کی نمی،
ہر پر میں روشنی کی لرزش۔
میں نے تمہیں جب سوچا
تو آسمان کم پڑ گیا،
ستارے مدھم ہو گئے،
کیونکہ تمہارے پروں کی چمک
چند ستاروں سے بھی زیادہ تیز تھی۔
رقیہ…
تمہارے پروں پہ میں نے
جگنو اترتے دیکھے ہیں،
جیسے رات خود تمہارے گرد
چراغاں ہونے آتی ہو۔
ہر پر ایک کرن،
ہر کرن ایک تسکین،
ہر تسکین میں محبت کا نور۔
تم چلتی ہو
تو فضا نرم ہو جاتی ہے،
تم مسکراتی ہو
تو اندھیروں کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔
رقیہ…
اگر پریاں حقیقت میں ہوتی ہیں
تو وہ تم جیسی ہوتی ہوں گی،
جن کے ستر ہزار پر ہوں
اور ہر پر میں
کسی ٹوٹے دل کے لیے
امید کی روشنی۔
اور میں…
تمہاری اس روشنی کے سامنے
بس ایک خاموش سا عاشق،
جو تمہارے پروں کی چمک میں
اپنا نام مٹتا ہوا دیکھ کر بھی
خوش ہے۔
کیونکہ رقیہ…
تم صرف پری نہیں،
تم وہ نور ہو
جس کے سامنے
ستارے بھی جھک جائیں۔

0
6