Circle Image

اشفاق احمد

@Ashfaq

کوئی اندر کی بات، کوئی نہیں
یعنی اب خود سے ڈر چکا ہوں میں
چار سو چھا گیا ہے سنّاٹا
مجھ کو لگتا ہے مر چکا ہوں میں

0
6
خواب سُولی پہ دھر لیے میں نے
اپنے حصے سفر لیے میں نے
کوئی بھی یار اپنا بن نہ سکا
عمر بھر جتنے گھر لیے میں نے
اُس مصور کے کارخانے سے
درد بھی، دردِ سر لیے میں نے

0
37
اندھیرے میں نہیں رکھنا
جو حق ہے وہ بتانا ہے
سمجھ پاؤ تو حاضر ہوں
تسلی ایک دھوکہ ہے،
جو کھانا ہے تو حاضر ہوں
وفا کچھ بھی نہیں ہوتی

3
253
لوگ ہنستے ہیں میری باتوں پر
یعنی میرا مذاق اڑاتے ہیں
تیرے آنے میں کتنی دیری ہے؟
ہاتھ خود سے الجھتے جاتے ہیں
اشفاق احمد

1
126
اس کی دنیا میں کوئی آیا ہے
اس کے ہاتھوں میں ہاتھ تھا کوئی
شب جو تنہا گزار دیتا تھا
رات اس کے بھی ساتھ تھا کوئی
اشفاق احمد

1
131