چاہیے اچھوں کو ، جتنا چاہیے
یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر
جائے مے ، اپنے کو کھینچا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟
بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے!
چاک مت کر جیب ، بے ایامِ گل
کُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بے گانگی
منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دشمنی نے میری ، کھویا غیر کو
کس قدر دشمن ہے ، دیکھا چاہیے
اپنی، رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی
یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے
غافل ، اِن مہ طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
چاہتے ہیں خوبرویوں کو اسدؔ
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
بحر
رمل مسدس محذوف
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن

4116

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں